ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کی گرفتاری کا معاملہ، رہائی کے عرضی کی سماعت  ملتوی، جنوری کے تیسرے ہفتہ میں شنوائی کا امکان

کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کی گرفتاری کا معاملہ، رہائی کے عرضی کی سماعت  ملتوی، جنوری کے تیسرے ہفتہ میں شنوائی کا امکان

Mon, 14 Dec 2020 19:33:15    S.O. News Service

 نئی دہلی،14/دسمبر (آئی این ایس انڈیا)  ہاتھرس گینگ ریپ کیس کی رپورٹنگ کے دوران گرفتار کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو رہا کرنے کی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت ایک بار پھر ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے سماعت کوجنوری کے تیسرے ہفتے تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کپل سبل نے یوپی حکومت کے بیان حلفی کا جواب دینے کے لئے وقت مانگا۔ آخری سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل سبل سے پوچھا تھا کہ وہ اس معاملے میں ہائی کورٹ کیوں نہیں جاتے ہیں۔سبل نے درخواست گزار کے حق میں دلیل دی کہ ان کے خلاف دائر ایف آئی آر میں کچھ نہیں ہے۔ یوپی سرکار نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ ہمیں کپن کے خلاف تفتیش میں مبینہ طور پر چونکا دینے والے حقائق اور شواہد ملے ہیں۔

سبل نے عدالت میں کہا تھا کہ پوری ایف آئی آر حرف آ خر کی شکل میں نہیں ہے، آپ دیکھیں کہ ایف آئی آر میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم جوابی حلف نامہ داخل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم صحافی کی اہلیہ اور بیٹی سے درخواست دائر کرنے کیلئے کہیں گے۔۔اسی دوران آخری سماعت میں چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کپن کے حق میں درخواست داخل کرنے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے سبل کو یہ بھی بتایا تھا کہ کیا آپ ہمیں کوئی ایسی مثال دکھا سکتے ہیں،جہاں کسی ایسوسی ایشن نے عدالت سے راحت طلب کرنے کیلئے عدلیہ کا رخ کیا  ہو۔

تاہم جب کپل سبل نے ارنب گوسوامی کے مسئلے کا ذکر کیا تو، چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہر معاملہ مختلف ہوتا ہے‘۔ خیال رہے کہ کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے یوپی پولیس کے ذریعہ صحافی صدیق کپن کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری پر سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر جوابی حلف نامہ میں  یوپی حکومت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان بھی لگائے ہیں۔

یونین نے کہا ہے کہ کپن کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی عرضی کے جواب میں یوپی حکومت نے جو دلائل دیئے ہیں وہ جھوٹے اور غیر معقول ہیں۔ بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ صدیق کو 56 دن تک تحویل میں رکھنا غیر قانونی ہے۔ انہیں حراست میں لے کر یوپی پولیس کے ذریعہ تشددکا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔یوپی سرکار نے عدالت میں اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ کپن جو پی ایف آئی(پاپولر فرنٹ آف انڈیا) کا آفس سیکریٹری ہے، ایک صحافی بن کر معاملہ کو کور کرر ہے تھے، اور تیجس نامی کیرالہ کے ایک اخبار کا شناختی کارڈ دکھا رہے تھے، جو کہ 2018 میں بند ہوچکا ہے۔

بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ کپن نسل پرستانہ فساد اور امن و امان کی صورتحال کی تخریب کاری  کے لئے مبینہ طور پر صحافت کی آڑ میں پی ایس آئی کے دیگر کارکنوں اور اسٹوڈنٹ ونگ (کیمپس فرنٹ آف انڈیا) کے رہنماؤں کے ساتھ ہاتھرس جارہا تھا۔ریاستی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کپن غیر قانونی تحویل میں نہیں ہے،بلکہ ایک مجازی عدالت کے ذریعہ منظور کیے جانے والے عدالتی حکم کے تحت عدالتی تحویل میں ہے۔  


Share: